ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہائی کورٹ کے سابق جج چاہتے تھے 31 دسمبر کو ثقافتی تقریب کا انعقاد، پونے پولیس نے کیا انکار

ہائی کورٹ کے سابق جج چاہتے تھے 31 دسمبر کو ثقافتی تقریب کا انعقاد، پونے پولیس نے کیا انکار

Thu, 24 Dec 2020 20:57:12    S.O. News Service

پونے،24 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) پونے پولیس نے 31 دسمبر کو بمبئی ہائی کورٹ کے جج بی جی کولسے پاٹل کو ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ پاٹل 2017 ایلگر پریشد پروگرام کے منتظمین میں شامل ہیں۔

بدھ کے روز پونے پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پاٹل نے شہر کے گنیش کلا کردا میں ایک عظیم الشان پروگرام کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن پولیس نے اجازت سے انکار کردیا۔پونے پولیس کمشنر امیتابھ گپتا نے کہا کہ ہم نے کورونا کے پیش نظر پابندیوں اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پروگرام کواجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

جسٹس کولسے پاٹل نے اپنے خط میں اجازت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام جمہوریت، آزادی اور آئین کو غیر محدود رکھنے کے بارے میں ہوگا۔ جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ منتظمین اب اس تقریب کی اجازت سے انکار کے خلاف ہائی کورٹ میں رجوع کریں گے۔واضح رہے کہ 31 دسمبر 2017 کو ایلگر پریشد کی کانفرنس اس وقت تنازعہ کی زد میں آگئی تھی جب پونے پولیس نے الزام لگایا تھا کہ اس تقریب کے اگلے ہی روز بھیما کوریگاؤں وار میموریل کے قریب تشدد پھوٹ پڑا ہے۔

پولیس نے الزام لگایا تھا کہ ایلگر پریشد میں اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں، جس کے نتیجے میں نسلی تشددہوا ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ اس واقعے کی ماؤنوازوں نے حمایت کی تھی اور تحقیقات کے دوران وروارا راؤ اور سدھا بھاردواج سمیت متعدد بائیں بازو کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔


Share: